تلاوت کلام پاک کا عنوان علوم قرآن کے مسائل میں نتیجہ اور ثمرہ کی حیثیت رکھتا ہے جب ہم علوم قرآن کے مسائل سے فارغ ہوئے تو ان کے نتائج کی طرف بھی اجمالی اشارہ کرتے ہیں تاکہ علوم قرآن کی اہمیت کا پتہ چلے، اور قرآن کے متین مطالب کو صحیح معنوں میں درک کرنے میں دشواری نہ ہو اور معاشرے کو نورانیت قرآن کے ذریعے منور کرسکیں، لہذا تلاوت کلام پاک کا ثواب اور فوائد کو بیان کرنا چاهوں گا تاکه مومنین زیادہ سے زیادہ بہرہ مند ہوسکیں۔
١۔ تلاوت کلام پاک ہمیشہ باوضو کرنا چاہیے ۔
٢۔ ہر نماز کے بعد تلاوت کرنا چاہیے ۔
٣۔ پاک وپاکیزہ جگہ جیسے مساجد اماکن متبرکہ جیسے روضات آئمہ معصومین(ع) وغیرہ میں کرنا چاہیے ۔
٤۔ قرآن کے حروف کو بغیر وضو کے چھونا حرام ہے ،لہذا باوضو قرآن کی تلاوت کرنا چاہیے
٥۔ تلاوت سے پہلے اور تلاوت کے بعد محمد وآل محمد (ص) پردرود بھیجنا چاہیے ۔
٦۔ تلاوت سے پہلے جو دعائیں آئمہ معصومین (ع) سے ہم تک پہنچی ہیں ان کی قرأت کرنا چاہیے
٧۔ تلاوت کے وقت روبہ قبلہ ہوناچاہیے ۔
٨۔ تلاوت کے دوران عام اور عادی حالت کی طرح گفتگو سے پر ہیز، دیگر کتب کی طرح ہاتھ میں قرآن رکھ کر مذاق یا کھیل وکود سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
٩۔ قرآن کی تلاوت کے وقت تفکر اور تدبر کرنے کی سفارش کی گئی ہے لہذا اس کا خیال رکھنا چاہیے ۔
١٠۔ ترجمہ شدہ قرآن کی تلاوت کی صورت میں غور وخوص کے ساتھ ترجمہ کو درک کرنے کی کوشش کرنا چاہیے
١١۔ تلاوت کے وقت قصد قربت اور تلاوت کے بعد والدین اور دیگر مومنین کے حق میں دعا کرنا چاہیے ۔
١٣۔ تلاوت کے دوران جن آیات میں عذاب کا ذکر ہو ا ہے اللہ سے نجات کی درخواست اور آیات رحمت کی تلاوت کے وقت اضافۃ رحمت کی دعا مانگنا چاہیے۔
١٤۔ الفاظ قرآنی جو مخصوص مخارج کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں لہذا حسین آواز کے ساتھ صحیح مخارج سے ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔
١٥۔ آیات کو ترتیل (ٹھہر، ٹھہر) کے ساتھ پڑھنا چاہیے ۔
١٦۔ تلاوت سے پہلے شیطان کے شر سے محفوظ رکھنے کی خدا وند عالم سے دعا کرنا چاہیے (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)
١٧۔ قرآن ایک باعظمت اور نہایت درجہ کی حامل کتاب ہے لہذا ان تمام مکانات میں جہاں اس کی بے احترامی ہوتی ہو وہاں اجتناب کرنا چاہیے ۔جیسے گلی کوچوں میں ۔
١٨۔ غسل جنابت ،یاغسل حیض یا نفاس واستحاضہ کے ہوتے ہوئے تلاوت کرنا اگر چہ جائز ہے لیکن سات آیات سے زیادہ کی تلاوت کرنا مکروہ ہے واضح رہے کہ جن سورتوں میںواجب سجدے ہیں کہ جنہیں سورہ عزائم بھی کہا جاتا ہے مذکورہ غسلوں کے ساتھ ان کی تلاوت کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔
١٩۔ قرآن کی تلاوت کے وقت وضو کے علاوہ بدن ولباس وغیرہ کا بھی پاک وپاکیزہ ہونا ،بہتر سمجھا جاتا ہے ۔
٢٠۔ تلاوت کلام پاک کے وقت خشوع وخضوع کا ہونا زیادہ مناسب ہے ۔
٢١۔ ایسے حرکات اور سکنات کا انجام دینا جن سے قرآن کی بے حرمتی اور توہین کا باعث ہے ان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔
٢٢۔ قاری قرآن جیسے انداز میں تلاوت کرنا ادا ب تلاوت سمجھا جاتا ہے، اچھی آوازمیںاور اوقاف وصل کے جگھوں سمیت تجوید قرآن کے قوانین کی روشنی میں تلاوت کرنا بہترہے ۔
٢٣۔ یوں تو تلاوت کلام پاک کے لئے کوئی مخصوص وقت نہیں ہے اور کسی بھی وقت میں تلاوت مستحب اور ایک نیک عمل ہے لیکن کچھ احادیث میں تاکید کے ساتھ نماز فجر کے بعد تلاوت کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
٢٤۔ اصحاب رسول(ص) کی سیرت یہ تھی کہ ہر ہفتے میں مکمل قرآن کی تلاوت کرتے تھے ۔اور مہینے میں کم از کم پانچ یا چار مرتبہ پورے قرآن کی تلاوت کرتے تھے اس بنا پر اگر ہم ہر ہفتے میںپورے قرآن کی ایک دفعہ تلاوت نہ کرسکیں تو ہر مہینے میں ایک دفعہ قرآن کی مکمل تلاوت کرنا چاہیے ۔
٢٥۔ ماہ مبارک رمضان جس کو بہار قرآن سے تعبیر کیا ہے ،کم سے کم ہر روز ایک جز قرآن کی تلاوت کرنے کی تاکید کی گئی ہے اورماہ مبارک رمضان سب سے افضل اور بہتر عبادت اور قرآن کی تلاوت کا مہینہ قرار دیا گیا ہے ۔
٢٦۔ تلاوت کے وقت قرآن کو ہر قسم کی گندہ گی اور بے احترامی سے محفوظ رکھنا چاہیے ۔
٢٧۔ قرآن کے کچھ سوروں کو اپنی ذاتی خصوصیات کی بنا پر ان سورتوں کو کچھ خاص اوقات میں تلاوت کرنے کی سفارش کی گئی ہے جیسے کہ شب جمعہ کے لئے مخصوص کچھ سورتوں کی تلاوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اسی طرح ہرروز سونے سے پہلے کچھ سورتوں کا نام لیا گیا ہے جن کی تلاوت کی تاکید کی گئی ہے، مفاتیح الجنان اور ثواب الاعمال وعقابہا اور سنن ترمذی جیسی کتابوں کی طرف مراجعہ فرما سکتے ہیں۔
٢٨۔ اگر کوئی بچہ جو احترام قرآن سے نا آشنا ہو اور تلاوت قرآن کرنا چاہے تو اس کو پہلے سے ہی آداب اوراحترام قرآن سے آگاہ کرنا چاہیے۔
٢٩۔ کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ تلاوت قرآن فقط مردوں کے ساتھ مخصوص ہے جیساکہ کسی زمانے میںخواتین کا قرآن سیکھنا عیب سمجھا جاتا تھا لیکن اس دور میں انقلاب جمہوری اسلامی ایران کی بر کت سے ایسے اوہام اورخام خیالی کا خاتمہ ہو چکا ہے اورالحمد للہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ قرآن سے فیضیاب ہورہی ہیں لہذا خواتین کوبھی تلاوت کے وقت صفائی اوروضواورطہارت کاخاص خیال رکھنا چاہیے ۔
٣۰۔ اہل بیت اطہار، اصحاب وتابعین سمیت علماء ومجتہدین کی سیرت یہ رہی ہے کہ جب بھی کوئی موقع ملا توقرآن کی تلاوت کرتے تھے ۔یہ عمل قرآن کی تلاوت کی اہمیت اورعظمت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
٣۱۔ اگر کسی بے حرمتی کی جگہ قرآن یا قرآن کا کوئی حصہ یا کوئی جملہ پڑا ہواہو تو اس کو فورا کسی پاک اورپاکیزہ جگہ پر رکھنا چاہیے ۔
٣۲۔ پورے عالم بشریت کا ضابطہ حیات کا نام قرآن ہے لہذا زیادہ سے زیادہ اس کی تلاوت اور مفاہیم کو درک کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ دنیا وآخرت کے حقائق سے قرآن کی روشنی میں آگاہی حاصل کرسکیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا ضابطہ حیات انسانی کو اس دور میں ہم فقط اموات کی فاتحہ خوانی تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔ !

اپنا تبصرہ بھیجیں