تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اُردن، شام اور اسرائیل کے درمیان ایک علاقہ آباد تھا جو نہایت سر سبز و شاداب تھا اور اسی علاقے کے بیچ میں ایک شہر سوڈان کے نام سے آباد تھا جسکی بستیاں نہایت سر سبز و شاداب تھیں ادھر ہر قسم کے اناج اور میوے کثرت سے پیدا ہوتے تھے۔

شہر کی خوشحالی دیکھ کے یہاں اکثر لوگ مہمان بن کے آتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان کی مہمان نوازی کا بوجھ اٹھانا پڑتا۔ شہر کے لوگ مہمانوں کی حد درجہ آمد سے کافی تنگ ہوگئے تھے۔ انکی مہمان نوازی سے حد درجہ اُکتاہٹ کو دیکھ کے شیطانِ لعین کو موقع مل گیا۔ اس نے ایک ایسا گناؤنا کھیل کھیلا جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی تھی۔

ابلیسِ لعین ایک بوڑھے انسان کے روپ میں آگیا اور ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم مہمانوں کی مہمان نوازی سے نجات چاہتے ہو تو جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔

اس طرح فعلِ بد انھوں نے شیطان سے سیکھا پھر رفتہ رفتہ یہ لوگ اس برے کام کے اتنا عادی ہوگئے کہ عورتوں کو چھوڑ کے مردوں سے یہ لوگ اپنی شہوت پوری کرنے لگے اس ک علاوہ بھی یہ قوم حد سے گزر گئی۔ یہ مسافروں کو لوٹ لیتے سرعام دھوکا بازی کرتے اور یہ کام وہ بڑے فخریا انداز سے کرتے۔ ان سب میں سب سے گھٹیا فعل ہم جنس پرستی تھا اور یہ کام یہ بڑے شوق سے کرتے بلکہ کوئی بھی محفل انکی اس کام کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی۔ خاص کر مسافروں میں کوئی بھی خوبصورت نوجوان آتا تو وہ اسے اپنی شہوت کا نشانہ بناتے۔ یہ قوم سرکشی میں حد سے بڑھ گئی۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کہ سوڈان کی طرف پہلے سے روانہ کر رکھا تھا۔ آپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ نے جب اپنی قوم کو شیطان کے چنگل میں دیکھا تو لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے:
“تم وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس جاتے ہو شہوت کے لیئے عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم حد سے گزر چکے ہو”

حضرت لوط علیہ السلام کی یہ اصلاحی باتیں سن کے انکی قوم نے انتہائی بیباکی اور بے حیائی سے جو کچھ کہا وہ بھی قرآنِ کریم کی سورۃ العراف میں مذکور ہے:
“کہ اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں ”
لیکن حضرت لوط علیہ السلام نے دل جمعی کے ساتھ تبلیغ جاری رکھی۔ آپ کی محنت کی وجہ سے کافی لوگ راہِ راست پر آگئے لیکن ابھی بھی ان لوگوں میں کثرت بدکاروں کی ہی تھی۔ یہاں تک کہ اس برائی میں حضرت لوط علیہ السلام کی اپنی بیوی بھی مبتلا تھی۔

جب اس قوم کی سرکشی اور بدفعلی قابلِ ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتے لے کے آسمان سے اترے اور حضرت ابراہیمؑ سے ملنے کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ سب فرشتے نہایت ہی خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حسن وجمال کو دیکھ کے اور اپنی قوم کی بدکاری کا خیال کرتے ہوئے حضرت لوط علیہ السلام کافی پریشان ہوئے۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور دیوار پر بدفعلی کی غرض سے چڑھنے لگے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو نہایت دل جمعی سے سمجھانا شروع کردیا لیکن نافرمانوں اور سرکش قوم اپنے بدفعلی کے کام سے باز نہ آئی۔

یہ دیکھتے ہوئے حضرت لوط علیہ السلام نے اپنے مہمانوں پر دروازہ بند کرلیا مگر وہ آئے اور انھوں نے دروازہ توڑ دیا اور اندر داخل ہو گئے۔

حضرت جبرائیل ؑ نے اللہ کے حکم سے انکی آنکھوں پر ضرب لگائی اور وہ اندھے ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اے لوطؑ تو ہمارے پاس جادوگر لے کے آیا ہے اور آپ کو بڑی دھمکیاں دیں اور آپ علیہ السلام دل ہی دل میں فکرمند ہوئے کے جب یہ فرشتے چلے جائیں گے تو یہ لوگ مجھے ازیت دیں گے۔

فرشتے اب تک یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ جب ان اوباشوں کی گستاخی اور حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی بڑھنے لگی تو حضرت جبرائیل ؑ بولے کہ آپ ڈریں نہیں میں آپکے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔
“اے لوط گھبراؤ نہیں اور دروازہ کھول دو اور ان ظالموں کو آگے آنے دو اب ان ظالموں کی مہلت کی گھڑیاں ٰختم ہونے والی ہیں۔ صرف صبح ہونے کی دیر ہے اور صبح ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں۔”
اس منظر کو قرآن میں یوں بیان کیا ہے سورۃھود میں:
“جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ نہایت غمگین اور تنگ دل ہوئے کیونکہ انھوں نے فرشتوں کو پہچانا نہ تھا۔ وہ سمجھے کے وہ انسان ہیں اور اپنی قوم کی عادتِ بد سے واقف تھے۔ لوط کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا ہے اور ان مہمانوں کی خبر پاتے ہی انکی قوم اپنی شہوت سے مجبور ہوکر انکے گھر کی طرف دوڑی ہوئی آئی وہ پہلے سے بدکاری کے خوگر تھے لوط نے ان سے کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں یعنی تم ان سے نکاح کرو یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں اور اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو کیا تم سے کوئی بھی بھلا آدمی نہیں ہے۔ وہ بولے اے لوط ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں ہے اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔”

اس عالم میں حضرت لوط علیہ السلام نے نہایت پریشانی میں بولا کہ کاش مجھ میں تم سے تنہا لڑنے کی طاقت ہوتی یا کوئی طاقتور اور مضبوط پناہ دینے والا ہوتا تو فرشتوں نے اپنے آپ کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کے اے لوط علیہ السلام گھبراؤ نہیں ہم تمہارے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ تم تک بھی نہ پہنچ پائیں گے اور تم کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کے نہ دیکھے بیشک اس قوم پر وہ عذاب پہنچ کے رہے گا جو ان تک پہنچنا ہے بیشک ان کی تباہی کے لئے صبح کا وقت مقرر ہے۔

جب حضرت جبرائیلؑ پر حکم پہنچا تو انھوں نے اس بستی کو آسمان میں اٹھا کے زمین پر پٹخ دیا اور اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی۔ ہر پتھر خدا کی طرف سے نامزد تھا۔

یہ بستی کوئی اتنی دور نہیں ہے مکہ سے شام کا سفر کرتے ہوئے راستے میں پرتی ہے۔

حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو اللہ کے حکم سے لے کے بستی سے باہر نکل گئے پھر حضرت جبرائیل ؑ نے اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کے آسمان کی طرف بلند ہوے اور کچھ اوپر جا کر زمین پر یہ بستیاں الٹا دیں یہ آبادیاں۔ زمین پر گر کے قوم لوط کے لوگ مر گئے اور انکی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔ آئیں اس وقت جب یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جسکا نام ویلا تھا جو درحقیقت منافق تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا اور کہا ہائے میری قوم اور اسی وقت آسمان سے ایک پتھر اس پر بھی آکر گرا اور یہ بھی مر گئی۔قرآنِ کریم میں بیان ہے کہ ہم نے حضرت لوط علیہ السلام اور انکے گھر والوں کو نجات دی لیکن انکی بیوی کو روک لیا اور اس کا ایسا انجام ہوا۔
جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے ہر پتھر پر اس بندے کا نام لکھا ہوا تھا جس سے وہ ہلاک ہوا۔
مفسرینِ قرآن کہتے ہیں اس عورت کی لاش آ ج بھی ان پتھروں میں آنے والی قوموں کے لیے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان پتھروں میں محفوظ کر کے چھوڑ دی ہے۔
سٹیون کولن امریکن ما ہرِ آثارِ قدیمہ نے اپنی تحقیقات میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اس بستی کے دو حصے تھے۔ اور چودہ سو سال قبل قرآن میں بھی اس کے دو حصے کی نشان دہی کی گی ہے۔ یہ شہر آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کا نشان بن کے محفوظ کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں