حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 8 میں ٹرانسفارمر پھٹنے سے 5 افراد جان کی بازی ہار گئے اور بیشتر زخمی ہوگئے۔
ٹرانسفارمر پھٹنے سے شدید جھلسنے والے افراد کو سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز اور عملے کی عدم دستیابی کے سبب متاثرین کو علاج میسر نہ ہو سکا۔

اس پر انہیں حیدرآباد سے 163 کلومیٹر دور کراچی منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 5 افراد انتقال کرگئے۔ پولیس کے مطابق انتقال کرجانے والوں میں سجاد قریشی،وقاص، نعمان، تابش اور شجاعت شامل ہیں۔ 12 افراد اب بھی کراچی کے دو مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

اے سیکشن پولیس نے واقعے کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں قتل اور نقصان رسانی کی دفعات کے تحت حیسکو کے پانچ ملازمین کے خلاف درج کرلیا جس میں حیسکو ملازمین سہیل، فیصل، اسماعیل، سلیم اور ابراہیم کوملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ نامزد 5 حیسکو ملازمین میں سے تین ملازمین خود بھی ٹرانسفارمر پھٹنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ نے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے حیسکو چیف اور ایس ایس حیدرآباد سے رابطہ کیا۔ انہوں نےواقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ حیدرآباد میں ٹرانسفارمر پھٹنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں